میرا نام مالا ہے اور میری شادی کو دو دن ہی ہوئے تھے مگر گھرمیں شکایتوں کا سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ہر روز صبح سے لے کر رات تک ایک عجیب سا ماحول بنا رہتا۔ اس دن صبح میں جلدی اٹھی، سوچا کہ ناشتہ بنا کر دیور جی کو دے دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں۔ ناشتہ تیار کرکے جب میں ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناشتہ میں کمی نکالنی شروع کر دی۔ کبھی کہتے، "ارے یہ پراٹھے تو اچھی طرح سے پکے نہیں ہیں" تو کبھی "چٹنی میں نمک کیوں کم ہے؟" ان کی باتوں سے میرا دل بیٹھ گیا، لیکن میں کچھ کہے بغیر بس خاموش کھڑی سنتی رہی۔شام کو شوہر سے بات کی، بتایا کہ دیور جی کا ایسا رویہ مجھے پریشان کر رہا ہے۔ شوہر نے ہمیشہ کی طرح کہا، بھائی کا غصہ تھوڑی دنوں میں ٹھنڈا ہو جائے گا، تمہیں بس

تھوڑی صبر کرنا ہوگا۔" شوہر کی باتوں میں تسلی تو تھی، لیکن مجھے سکون نہیں مل رہا تھا۔ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ آخر دیور جی کا مزاج ایسا کیوں ہے؟ دن بدن ان کا رویہ میرے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ دو دن ہو گئے اور ہر دن دیور جی کا غصہ دیکھنے کو ملتا۔ ہر بار جب وہ شوہر کو بلاتے، شوہر کے چہرے کی رنگت اڑ جاتی تھی، وہ بغیر کچھ کہے فوراً باہر چلے جاتے اور باہر سے چیخنے

https://youtu.be/iHK-4k24wHg

چلانے کی آوازیں آنے لگتی۔ ان کے غصے کی گونج سن کر میرے دل میں بھی خوف بیٹھ جاتا تھا۔ چوتھے دن صبح کا وقت تھا، شوہر نے مجھ سے کہا، "چلو آج ہم باہر گھومنے چلیں گے۔" یہ سن کر مجھے تھوڑی خوشی ملی، پر تبھی دیور جی نے شوہر کو پکار لیا۔ شوہر فوراً کمرے سے باہر چلے گئے، تھوڑی ہی دیر بعد باہر سے زور زور سے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔دیور جی غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے، "تمہیں احساس ہے کہ فیکٹری میں تمہاری غیر حاضری سے کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟ تین دن سے شادی کے نام پر گھر بیٹھا ہے اور آج

پھر چھٹی کرکے باہر جانے کی سوچ رہا ہے؟ ابھی کے ابھی فیکٹری پہنچو اور سارے لوگوں پر نظر رکھو۔ یہ شادی اس لیے نہیں ہوئی ہے کہ تم گھر میں بند رہو اور اپنی بیوی سے کہہ دو کہ کچن کی ذمہ داری سنبھالے، یہاں کوئی اور عورت نہیں ہے جو اس کے نخرے اٹھائے گی۔" دیور جی کے یہ الفاظ سن کر جیسے میرے دل پر کسی نے چوٹ کر دی۔ دل میں غصہ تو تھا، لیکن اس وقت میں نے خود کو بہت بے بس محسوس کیا۔ سمجھ نہیں

آ رہا تھا کہ کیا کروں، کس سے کہوں؟ ان کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ مجھ سے خوش نہیں تھے۔ ہر بار جب وہ شوہر کو ڈانٹتے، میرا دل بیٹھ جاتا۔ شوہر جب واپس کمرے میں آئے تو اس کے چہرے پر فکر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے دھیمی آواز میں مجھ سے معافی مانگی اور کہا، "مجھے فیکٹری جانا پڑے گا، بھائی نے بہت ڈانٹا۔" میں نے اپنے جذبات کو چھپاتے ہوئے دھیرے سے کہا، "میں سمجھتی ہوں، کوئی بات نہیں۔" دل تو بہت دکھی تھا، لیکن شوہر کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ وہ خود بھی پریشان تھا۔ میں نے دل میں عزم کر لیا کہ مجھے اب دیور جی کے غصے اور ان کی باتوں سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ چاہے جو بھی ہو، مجھے اس گھر میں رہنا ہے اور یہ بھی سمجھنا ہے کہ سب کا

طبیعت الگ ہوتا ہے۔ اس دن کے بعد میں نے دیور جی کی باتوں کو دل پر لینا بند کر دیا، ان کی ہر شکایت کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے شروع کیا، لیکن دل میں یہ سوال بار بار اٹھتا کہ آخر ایسا کب تک چلے گا؟ شادی کے بعد شوہر نے مجھے بڑے پیار سے سمجھایا تھا، بھائی کی باتوں کا برا مت مانو، وہ ویسے ہی غصے میں رہتے ہیں، لیکن دل کے بُرے نہیں۔" تین دن تک میں بس یہی سوچتی رہی کہ دیور جی کا مزاج اتنا سخت کیوں ہے؟ ہر چھوٹی بات پر وہ غصہ کیوں کر دیتے ہیں؟ لیکن آج جو ہنگامہ ہوا اس سے میں واقعی بہت گھبرا گئی تھی۔شوہر جب کمرے میں آیا تو اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔ اس نے دھیمی آواز میں مجھ سے معافی مانگی اور کہا، "مجھے فیکٹری جانا پڑے گا، بھائی نے بہت ڈانٹا۔" میں نے تھوڑا مسکرانے کی کوشش کی اور کہا، "کوئی بات نہیں، کام پہلے ہے، باہر ہم پھر کبھی چلے جائیں گے۔" شوہر کے جانے کے بعد میرا دل بھاری ہو گیا تھا۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کچن کا رخ کیا، لیکن برتن دھوتے وقت میرے دل میں کئی سوال اٹھ رہے تھے۔ شادی کے چوتھے ہی دن

مجھے سارے گھر کا کام کرنا پڑ رہا تھا۔ اوپر سے دیور جی نے نوکرانی کو بھی نکال دیا تھا۔ انہوں نے میرے شوہر سے کہا تھا، "اب گھر میں تمہاری بیوی آ گئی ہے تو صفائی اور باقی کام وہی کرے گی۔" صبح سے ہی میں گھر کے کام میں مصروف تھی۔ سارے برتن دھونے کے بعد میں نے پورے گھر کی صفائی کی۔ شادی کے بعد پہلے ہی ہفتے میں اتنی محنت

اور کام ہو رہا تھا کہ دل کر رہا تھا سب چھوڑ کر بس سو جاؤں۔ جب آخرکار گھر کا ہر کونا صاف کرکے میں اپنے کمرے کی طرف بڑھی تو تھکاوٹ سے جسم ٹوٹنے لگا تھا، لیکن جیسے ہی میں کمرے میں پہنچنے والی تھی، دیور جی نے مجھے آواز دی، بھابھی ذرا ادھر آؤ۔" میں نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے کو اچھے سے اوڑھ لیا کیونکہ میں جانتی تھی کہ دیور جی اس بات پر بھی ناراض ہو سکتے ہیں۔ ان کے کمرے میں جاتے وقت میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ جیسے ہی میں ان کے سامنے پہنچی، جلدی کی

وجہ سے دوپٹا پھسل کر نیچے گر گیا۔ میں نے دھیرے سے پوچھا، "جی دیور جی، کچھ چاہئے تھا؟" انہوں نے ایک بار پھر مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور میں خود کو اور بھی عجیب محسوس کرنے لگی۔ جلدی سے دوپٹا درست کیا اور سائیڈ ٹیبل پر دودھ کا

گلاس رکھ دیا۔ جیسے ہی میں وہاں سے نکلنے والی تھی، انہوں نے روک لیا اور بولے، "تھوڑی دیر یہاں بیٹھا کرو، بات کر لیا کرو، اب گھر میں تمہارے علاوہ تو کوئی ہوتا نہیں ہے۔ بڑے دنوں سے اکیلا ہوں، بور ہو جاتا ہوں۔" یہ سن کر میرے دل

میں عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔ کمرے میں بیٹھنے کے لیے کرسی نہیں تھی تو مجھے مجبوراً بیڈ کے کنارے ہی بیٹھنا پڑا۔دیور جی ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے لیکن میں ان کی باتوں پر توجہ نہیں دے پا رہی تھی۔ تب ہی انہوں نے دودھ کا گلاس اٹھایا،

لیکن ایک گھونٹ لیتے ہی شکایت کرنے لگے، "اتنا ٹھنڈا دودھ میں نہیں پی سکتا،۔ ان کی نظروں میں کچھ ایسا تھا جس نے مجھے بے چین کر دیا

https://youtu.be/MeV8xaG8W8g

https://youtu.be/ZGH-4hdX4KA

https://youtu.be/dgoqD9xtEcU