https://youtu.be/5gh0IRGLeGc

50 Sala aurat ki dukh bhari kahani || Dardnak Kahaniya || Urdu Kahani || SachiKahaniyan || UrduStory

آج نائلہ کو رشتے والے دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں آج بس کسی چیز کے کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے اگر ہو سکے تو آج آپ دفتر سے چھٹی لے لیں تاکہ سارے کام کاج اچھے سے ہو جائیں سنا ہے لڑکے والے بڑے ہی امیر کبیر ہیں کھاتے پیتے لوگ ہیں لڑکا بھی اچھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ کھانے پینے کی کسی بھی چیز میں کوئی کمی نہ ہو آپ تو جانتی ہیں کہ پورے خاندان میں جیسا کھانا آپ بناتی ہیں ویسا کوئی بنا ہی نہیں سکتا میں نے مسکرا کر یہ سنا تھا دل سے نائلہ کے لیے دعائیں نکلی تھی کہ اللہ تعالی اس کے نصیب اچھے کرے مسکرا کر کہنے لگی کہ آپ فکر مت کریں میں سب کچھ سنبھالوں گی اتنا مزیدار کھانا بناؤں گی کہ سب لوگ انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے میری یہ بات سن کر وہ مسکرائی تھی پھر میرے قریب آئیں اور میرے گال پر اپنے لب رکھیں کہنے لگی کہ بس تمہاری یہی اچھائی تو ہے جس نے کبھی ہمیں کھوکھلا نہیں ہونے دیا میں جانتی ہوں کہ آپ سب کچھ اچھے سے سنبھال لیں گی اور میں مسکرا کر دیکھتی رہ گئی تھی میں نے سب سے پہلے تو اپنا موبائل نکالا اور اپنی کولیگ کو فون کیا اسے بتایا کہ میں آج دفتر نہیں آ سکوں گی تم میری طرف سے درخواست دے دینا اور پھر برتن دھونے کے بعد میں وہیں کچن میں ہی ہانڈی کا مسالہ بنانے لگی۔ سوچا آج چکن اور سبزیوں والی بریانی پکاؤں گی ذرا اچھا امپریشن پڑے گا لیکن وہی اپنے جذبات میں اپنے دل میں دبا کر رکھی ہوئی تھی ہاں وہی جذبات جو ہر ایک لڑکی کے ہوتے ہیں اور میرے بھی تھے یہ عورت جو ابھی میرے پاس کچن میں آ کر مجھے کہہ کر گئی تھی کہ آج نائلہ کے رشتے والے آ رہے ہیں یہ میری ماں نہیں تھی بلکہ میری بھابھی تھی بھابھی بڑی نہ تھی بلکہ میرے چھوٹے بھائی کی بیوی تھی ۔ میں زندگی کی پچاس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ مگراپنی زندگی اپنے بھائیوں کے نام وقف کر دے دی نائلہ میرے بڑے بھائی کی بیٹی تھی ہاں جو مجھ سے باقی بھائیوں میں بڑا تھا اور میں آج اس دعوت کا اہتمام اپنے بھتیجی کے آنے والے رشتے کے لیے کر رہی تھی بہرحال جلدی جلدی سارے کام نپٹائے تھے میرے دل پر کیا گزر رہی تھی جسے صرف میرا دل ہی جانتا تھا جہاں پر آخر پرواہ ہی کسی تھی کہ میں روز جیتی ہوں روز مرتی ہوں اب تو میرے بھتیجے بھتیجیاں بھی جوان ہو چکے تھے تینوں بھائی شادی شدہ تھے اور اسی گھر میں رہتے تھے انہی خیالوں میں گم تھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھی کہ جب رشتے والے بھی آ گئے کھانا سارا تیار تھا میری بھتیجی کچن میں آئی اور سلیقے سے وہ کھانا لے جا کر میز پر سجانے لگی مہمانوں کے سامنے یہی بتایا گیا تھا کہ یہ سارا کھانا نائلہ نے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے مہمانوں نے جب کھانا کھایا تو واقعی انگلیاں چاٹتے رہ گئے تھے لیکن اسی کے ساتھ ہی جب نائلہ کی ہونے والی ساس کی نظر مجھ پر پڑی تو کہنے لگی کہ ارے بہن آپ بھی ہمارے پاس آ کر بیٹھ جائیں ہمیں آپ سے بھی دو گھڑی بیٹھ کر باتیں کرنی ہے ہم تو جب سے آئے ہیں آپ کو بس ادھر ادھر کام کرتے ہی دیکھ رہے ہیں نائلہ کے ہونے والی ساس نے یہ بات کہی تو میری بھابھی نے بھی فورا ہٹ بڑھا چکی تھی کہنے لگی کہ ہاں بس اپنی بھتیجی سے محبت ہی بہت کرتی ہیں کہتی ہیں کہ آپ لوگ بیٹھ کر معاملات سلجھاؤ میں ساتھ اپنی بھتیجی کی مدد کر دیتی ہوں میری بھابھی نے بڑے اچھے طریقے سے اس معاملے کو ہینڈل کیا تھا ۔نائلہ کی ہونے والی ساس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگی کہ ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہے ابھی آپ اس قدر خوبصورت ہیں تو نہ جانے جوانی میں آپ کیسی لگتی ہوں گی آپ تو خوب قیامت ڈھاتی ہوں گی سب پر اتنا کہہ کر وہ ہنسی تھی جبکہ میں ابھی مسکرا اٹھی تھی کہنے لگے کہ آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی آخر کیا وجہ بنی کہ آپ شادی نہ کر سکیں ماشاءاللہ سے اتنی پیاری ہیں خوبصورت ہیں آپ کے لیے تو بہت رشتے آتے ہوں گے نائلہ کی ساس مجھے یہ سب کچھ کہہ رہی تھی اور میں دور کہیں بہت دور ہے خیالوں میں ڈوب چکے تھے سر جھٹک کر فورا کہنے لگی کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل میں نے خود ہی شادی نہیں کی تھی میں کسی نہ کسی طرح بات کو ٹال کر وہاں سے اٹھ کر آ چکی تھی رشتہ پکا ہو چکا تھا اور چند روز بعد میری بھتیجی کی شادی ہونے والی تھی جب کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھی بہت عرصے بعد رونے لگی تھی میں نے سوچ لیا تھا کہ آج کے بعد میں نہیں رہوں گی یہی میری زندگی اور میں اسے ایسے ہی گزاروں گی لیکن آج آپ اپنے بھتیجی کو اس عمر میں پہنچ کر ان سب ریت رواج اور رسموں سے گزرتے ہوئے دیکھا تھا تو میرے دل میں ایک چبھن سی اٹھی تھی کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب میں اس عمر کی تھی اور میں بھی دور سے گزر کر آئی تھی مجھے ماضی یاد آنے لگا میں اپنے تھکن زیادہ وجود کے ساتھ بستر پر لیٹ گئے اور بہت دور کئی سال پہلے کا وقت سوچنے میں اپنی بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور میرے بعد میرے تین بھائی تھے تینوں بھائی مجھے میری جان سے بڑھ کر پیارے تھے میرے ابا بھی ہم چاروں بہن بھائیوں میں کبھی فرق نہیں کرتے تھے گھر کے حالات کچھ خاص نہ تھے جس سے ہمارا گزارا ہوا تھا جیسےآج نائلہ کو رشتے والے دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں آج بس کسی چیز کے کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے اگر ہو سکے تو آج آپ دفتر سے چھٹی لے لیں تاکہ سارے کام کاج اچھے سے ہو جائیں سنا ہے لڑکے والے بڑے ہی امیر کبیر ہیں کھاتے پیتے لوگ ہیں لڑکا بھی اچھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ کھانے پینے کی کسی بھی چیز میں کوئی کمی نہ ہو آپ تو جانتی ہیں کہ پورے خاندان میں جیسا کھانا آپ بناتی ہیں ویسا کوئی بنا ہی نہیں سکتا میں نے مسکرا کر یہ سنا تھا دل سے نائلہ کے لیے دعائیں نکلی تھی کہ اللہ تعالی اس کے نصیب اچھے کرے مسکرا کر کہنے لگی کہ آپ فکر مت کریں میں سب کچھ سنبھالوں گی اتنا مزیدار کھانا بناؤں گی کہ سب لوگ انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے میری یہ بات سن کر وہ مسکرائی تھی پھر میرے قریب آئیں اور میرے گال پر اپنے لب رکھیں کہنے لگی کہ بس تمہاری یہی اچھائی تو ہے جس نے کبھی ہمیں کھوکھلا نہیں ہونے دیا میں جانتی ہوں کہ آپ سب کچھ اچھے سے سنبھال لیں گی اور میں مسکرا کر دیکھتی رہ گئی تھی میں نے سب سے پہلے تو اپنا موبائل نکالا اور اپنی کولیگ کو فون کیا اسے بتایا کہ میں آج دفتر نہیں آ سکوں گی تم میری طرف سے درخواست دے دینا اور پھر برتن دھونے کے بعد میں وہیں کچن میں ہی ہانڈی کا مسالہ بنانے لگی۔ سوچا آج چکن اور سبزیوں والی بریانی پکاؤں گی ذرا اچھا امپریشن پڑے گا لیکن وہی اپنے جذبات میں اپنے دل میں دبا کر رکھی ہوئی تھی ہاں وہی جذبات جو ہر ایک لڑکی کے ہوتے ہیں اور میرے بھی تھے یہ عورت جو ابھی میرے پاس کچن میں آ کر مجھے کہہ کر گئی تھی کہ آج نائلہ کے رشتے والے آ رہے ہیں یہ میری ماں نہیں تھی بلکہ میری بھابھی تھی بھابھی بڑی نہ تھی بلکہ میرے چھوٹے بھائی کی بیوی تھی ۔ میں زندگی کی پچاس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ مگراپنی زندگی اپنے بھائیوں کے نام وقف کر دے دی نائلہ میرے بڑے بھائی کی بیٹی تھی ہاں جو مجھ سے باقی بھائیوں میں بڑا تھا اور میں آج اس دعوت کا اہتمام اپنے بھتیجی کے آنے والے رشتے کے لیے کر رہی تھی بہرحال جلدی جلدی سارے کام نپٹائے تھے میرے دل پر کیا گزر رہی تھی جسے صرف میرا دل ہی جانتا تھا جہاں پر آخر پرواہ ہی کسی تھی کہ میں روز جیتی ہوں روز مرتی ہوں اب تو میرے بھتیجے بھتیجیاں بھی جوان ہو چکے تھے تینوں بھائی شادی شدہ تھے اور اسی گھر میں رہتے تھے انہی خیالوں میں گم تھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھی کہ جب رشتے والے بھی آ گئے کھانا سارا تیار تھا میری بھتیجی کچن میں آئی اور سلیقے سے وہ کھانا لے جا کر میز پر سجانے لگی مہمانوں کے سامنے یہی بتایا گیا تھا کہ یہ سارا کھانا نائلہ نے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا ہے مہمانوں نے جب کھانا کھایا تو واقعی انگلیاں چاٹتے رہ گئے تھے لیکن اسی کے ساتھ ہی جب نائلہ کی ہونے والی ساس کی نظر مجھ پر پڑی تو کہنے لگی کہ ارے بہن آپ بھی ہمارے پاس آ کر بیٹھ جائیں ہمیں آپ سے بھی دو گھڑی بیٹھ کر باتیں کرنی ہے ہم تو جب سے آئے ہیں آپ کو بس ادھر ادھر کام کرتے ہی دیکھ رہے ہیں نائلہ کے ہونے والی ساس نے یہ بات کہی تو میری بھابھی نے بھی فورا ہٹ بڑھا چکی تھی کہنے لگی کہ ہاں بس اپنی بھتیجی سے محبت ہی بہت کرتی ہیں کہتی ہیں کہ آپ لوگ بیٹھ کر معاملات سلجھاؤ میں ساتھ اپنی بھتیجی کی مدد کر دیتی ہوں میری بھابھی نے بڑے اچھے طریقے سے اس معاملے کو ہینڈل کیا تھا ۔نائلہ کی ہونے والی ساس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگی کہ ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہے ابھی آپ اس قدر خوبصورت ہیں تو نہ جانے جوانی میں آپ کیسی لگتی ہوں گی آپ تو خوب قیامت ڈھاتی ہوں گی سب پر اتنا کہہ کر وہ ہنسی تھی جبکہ میں ابھی مسکرا اٹھی تھی کہنے لگے کہ آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی آخر کیا وجہ بنی کہ آپ شادی نہ کر سکیں ماشاءاللہ سے اتنی پیاری ہیں خوبصورت ہیں آپ کے لیے تو بہت رشتے آتے ہوں گے نائلہ کی ساس مجھے یہ سب کچھ کہہ رہی تھی اور میں دور کہیں بہت دور ہے خیالوں میں ڈوب چکے تھے سر جھٹک کر فورا کہنے لگی کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل میں نے خود ہی شادی نہیں کی تھی میں کسی نہ کسی طرح بات کو ٹال کر وہاں سے اٹھ کر آ چکی تھی رشتہ پکا ہو چکا تھا اور چند روز بعد میری بھتیجی کی شادی ہونے والی تھی جب کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھی بہت عرصے بعد رونے لگی تھی میں نے سوچ لیا تھا کہ آج کے بعد میں نہیں رہوں گی یہی میری زندگی اور میں اسے ایسے ہی گزاروں گی لیکن آج آپ اپنے بھتیجی کو اس عمر میں پہنچ کر ان سب ریت رواج اور رسموں سے گزرتے ہوئے دیکھا تھا تو میرے دل میں ایک چبھن سی اٹھی تھی کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب میں اس عمر کی تھی اور میں بھی دور سے گزر کر آئی تھی مجھے ماضی یاد آنے لگا میں اپنے تھکن زیادہ وجود کے ساتھ بستر پر لیٹ گئے اور بہت دور کئی سال پہلے کا وقت سوچنے میں اپنی بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور میرے بعد میرے تین بھائی تھے تینوں بھائی مجھے میری جان سے بڑھ کر پیارے تھے میرے ابا بھی ہم چاروں بہن بھائیوں میں کبھی فرق نہیں کرتے تھے گھر کے حالات کچھ خاص نہ تھے جس سے ہمارا گزارا ہوا تھا جیسے جیسے بھائی بڑے ہو رہے تھے ان کے پڑھائی کے خرچے بھی زیادہ ہو رہے تھے اس لیے میں نے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا تھا اسی کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی ہوئی تھی لیکن جیسے جیسے وقت آگے گزرنے لگا میرے ابا کی طبیعت خراب رہنے لگی اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ہمارے ابا ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے جا چکے تھے پورے گھر کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آ چکی تھی چونکہ بھائی چھوٹے تھے اور پڑھ رہے تھے اس لیے میں نے انہیں کوئی کام کرنے نہیں دیا تو میری اماں مجھ سے کہنے لگی کہ بیٹا تو ہی اب ہمارا بڑا بیٹا ہے سارے گھر کے ذمہ داریاں تو نے اٹھانی ہے ہمیں مرد بن کر پا لے گی ماں کے بات سنی تو میں اپنی اماں کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی کہ ماں تو فکر مت کرو دیکھنا ابا کس قدر پر سکون ہوگی ان https://youtu.be/_99xv9tCmSk

جیسے بھائی بڑے ہو رہے تھے ان کے پڑھائی کے خرچے بھی زیادہ ہو رہے تھے اس لیے میں نے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا تھا اسی کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی ہوئی تھی لیکن جیسے جیسے وقت آگے گزرنے لگا میرے ابا کی طبیعت خراب رہنے لگی اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ہمارے ابا ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے جا چکے تھے پورے گھر کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آ چکی تھی چونکہ بھائی چھوٹے تھے اور پڑھ رہے تھے اس لیے میں نے انہیں کوئی کام کرنے نہیں دیا تو میری اماں مجھ سے کہنے لگی کہ بیٹا تو ہی اب ہمارا بڑا بیٹا ہے سارے گھر کے ذمہ داریاں تو نے اٹھانی ہے ہمیں مرد بن کر پا لے گی ماں کے بات سنی تو میں اپنی اماں کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی کہ ماں تو فکر مت کرو دیکھنا ابا کس قدر پر سکون ہوگی ان