میری نظریں میری ماں کے چہرے پر مرکوز تھی وہ بڑی مشکل سے سانس لے پا رہی تھی جب میری ماں کی سانس لینا کی آواز دھیمی ہو جاتی تو میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھی میں فورا ان کے قریب جاتا ان کی جانب دیکھتا بعض اسے پکڑ کر ہلاتا ہاتھ تھام لیتا اور کہتا اماں اماں بولتی کیوں نہیں ہو اگلے ہی پل میری اماں کی تھوڑی سی آنکھیں کھلتی اور آنکھیں کھول کر کہتی کہ بیٹا ابھی تیری ماں کی سانسیں باقی ہیں ۔اماں ایسی باتیں کیوں کرتی ہو ابھی تو تم نے بہت کچھ دیکھنا ہے تم سونا چاہتی ہو سو جاؤ لیکن اگر ذرا سا بھی تکلیف محسوس کرو تو مجھے بتانا میں فورا ڈاکٹر کو بلا لوں گا میری اماں نے صرف سر کو جمبش دی تھی اور پھر آنکھیں موند  لی ایک دم سے اس کی سانسوں کی آواز اس قدر تیز ہو جاتی  میرا دل گھبرانے لگتا عجیب طرح کے وسوسے میرے دماغ میں آنے لگتے تھے لیکن اگلے ہی پل وہ ایک دم سے پھر نارمل ہو جاتی تھی میرے ہاتھ میں سورہ یاسین تھی میں پچھلے تین گھنٹوں سے کتنی ہی مرتبہ سورہ یاسین پڑھ کر اپنی ماں پر پھونک چکا تھا ایسے کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ میری ماں ٹھیک ہو جائے اس کا جو بھی مسئلہ ہے خدا معجزاتی طور پر ٹھیک کر دے لیکن معجزے مجھ جیسے لوگوں کے لیے عام تھوڑی ہوا کرتے ہیں میں رونے لگا بے بسی کا شکار تھا کاش میں اپنی ماں کی قدر پہلے کر لیتا جیسے اب کر رہا تھا میں پہلے ہی اپنی ماں کی ہر حرکت پر نظر رکھتا دیکھتا کہ وہ کیا چاہتی ہیں کیا محسوس کر رہی ہیں لیکن میں نے ان کے بارے میں ہمیشہ لاپرواہی کا ہی مظاہرہ کیا تھا نہ جانے  اپنی ماں کے ہاتھ پر رکھے میری بھی آنکھ لگ چکی تھی جب میری انک کھلی تو میرے بالوں میں کوئی ہاتھ پھیر رہا تھا آنکھیں کھول کر دیکھا تو بے ساختہ  میرے منہ سے اماں نکلا تھا میری ماں بھلے ہی  نیند کی شکار تھی لیکن اس کے باوجود وہ میرے بالوں میں دھیرے دھیرے ہاتھ پھیر رہی  تھی کہنے لگا کہ بیٹا سو جانا جا کر مت فکر کر میری میں ٹھیک ہو جاؤں گی اب دیکھنا میں تو یہاں پر لیٹی آرام کر رہی ہوں لیکن تجھے میں نے اس قدر پریشان رکھا ہے درد ہو جائے گا تجھے کمر میں ایسے بیٹھ بیٹھ کر جا شاباش گھر جا کر آرام کر لے میری فکر مت کر میری طبیعت خراب ہوئی تو میں یہاں پر نرس کو بولوں گی وہ تجھے بلا لے گی میری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو ٹوٹ کر نکلنے پر آئے تھے کتنی فکر تھی میری ماں کو میری اس حالت میں بھی اسے صرف میری ہی فکر تھی میں رونے لگا روتے ہوئے کہنے لگا کہ اماں بس کر دو مت کیا کرو میری فکر میں کوئی بچہ نہیں ہوں تمہارا بیٹا ہوں بیٹا اور بیٹوں پر کئی طرح کے فرائض ہوتے ہیں میں نے تو ٹھیک سے وہ فرائض بھی نہیں نبھائیں جو کہ ہر بیٹے کو اپنی ماں کے لیے نبھانے چاہیے تھے تم تو میرا ماں اور باپ دونوں بن کر میرے ساتھ رہی لیکن میں اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اماں میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں بس میرا اللہ تجھے جلدی جلدی ٹھیک کر دے مجھے ماضی کا وہ وقت یاد آنے لگا میں اس وقت صرف چھ سال کا تھا جیسے ہی ہوش سنبھالا تھا تو گھر میں لڑائی جھگڑے ہی دیکھے تھے ۔ میرے ابا زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے۔  مگر پھر بھی تھوڑا بہت پیسہ ضرور جمع کر رکھا تھا۔ مگر مجھے اپنے ابا  زیادہ پسند  نہ تھے۔ کیونکہ  وہ ایک جھگڑالو قسم کے مرد تھے۔یہی کہتے تھے کہ بیٹا تیری ماں سے تو شادی کر کے میں نے غلطی کر دی ارے اس نے کوئی سیدھا کام کیا ہی کیا ہے میں خاموشی سے ابا کی باتیں سنتا رہتا تھا اماں روتی بھی رہتی اور ابا کے کام بھی کرتی رہتی اسے جھگڑتی بھی رہتی اور اس کی ٹانگیں بھی دباتی رہتی جبکہ ابا اسے وہی ٹانگ ٹھوکر مار کر بستر سے گرا دیا کرتا تھا بار بار اماں کو کہتا تھا کہ اپنی اوقات میں رہ تو میرے پاؤں کی جوتی ہے جوتی اگر زیادہ تکلیف دینے لگ گئی تو اتار کر پھینک دوں گا اور نہیں جوتی پاؤں میں پہن لوں گا اس طرح کی باتیں کر کر کے ابا اماں کو بہت تکلیف دیا کرتے تھے پہلے پہل تو میں بھی ابا کی طرح اماں سے نفرت کرنے لگا تھا لیکن دھیرے دھیرے مجھے احساس ہونے لگا کہ ابا کو نہ ہی مجھ سے محبت ہے اور نہ ہی اماں سے بلکہ انہیں تو ہر اس عورت سے محبت ہے جو ان سے ہنس کر دو گھڑی بات کر لیا کرتی ہے گاؤں میں کوئی تقریب ہوتی یا ہمارے گھر میں مہمان خواتین آ جاتی تو ابا کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی وہ تو ان عورتوں کے آگے پیچھے گھومنے لگتا تھا ایسے پیار بھری رسیلی باتیں کرتا کہ جیسے اس سے زیادہ میٹھا اور اخلاق والا بندہ ہی کوئی نہیں ہے آج تک میں نے ابا کو اماں سے محبت بھری باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ہاں شاید جب نئی نئی شادی ہوئی ہوگی تب کچھ عرصے https://youtu.be/mJMFgQxorJg

تک ابا اماں سے محبت بھری باتیں کرتے رہے ہوں گے لیکن میں نے تو اب صرف اور صرف ان کو اماں سے لڑتے دیکھا تھا اور غیر عورتوں میں دلچسپی لیتے ہی دیکھا تھی ایک روز اماں کی سہیلی ہمارے ہاں آئی وہ بھی شاید ابا کے ہی مزاج کی عورت تھی جانتے ہوئے بھی کہ میرا ابا اس کی سہیلی کا شوہر ہے پھر بھی اس نے میرے ابا کو اپنے جال میں پھنسانا شروع کر دیا جال میں کیا پھنسانا تھا میرا ابا خود ہی اس پر لٹو ہو چکا تھا میری اماں نے ایک روز جب دونوں کو بات کرتے دیکھ لیا تو اپنے سہیلی  کو تھپڑ دے مارا۔ جب ابا کو اس بارے میں پتہ چلا تو اس سے برداشت نہ ہوا وہ وہیں پر گیا اور میری اماں کو سارے راستے مارتے مارتے گھر لایا تھا میری اماں چیختی رہی چلاتی رہی آج تو اس کے صبر کے پیمانے بھی لبریز ہو چکے تھے روتے ہوئے چیختے چلاتے کہنے لگی کہ چھوڑ دے مجھے میں بہت برداشت کر چکی ہوں اب میرا تیرے ساتھ گزارا بڑا مشکل ہو گیا ہے صرف اور صرف اس لیے برداشت کر رہی تھی کہ میرا بچہ چھوٹا ہے نہ جانے میکے گئی تو اس کے ساتھ میرا بھائی کیا سلوک کرے گا لیکن تو نے تو آج حد ہی پار کر دی میری ہی سہیلی منہ کالا کرتا پھر  تا ہے۔ گاؤں والے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے میرے ابا ماں کو مارتے ہوئے گھر تک لائے تھے ہر کوئی میری ماں کو چھڑا رہا تھا

Untitled